20 جولائی 2026 - 21:42
امریکہ کی طرف سے پھر بھی جنگ بندی کی تجویز، اس بار مقصد کیا ہے؟

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس جنگ بندی کا اصل ہدف جنگ ختم کرنا نہیں بلکہ امریکہ کے اندر ایک داخلی موقع پیدا کرنے کے لئے وقت خریدنا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ قطر کی ثالثی کے ذریعے جنگ بندی کی تجویز دوبارہ اس وقت پیش کی گئی ہے جب امریکہ بیک وقت ایران کے خلاف دباؤ اور حملے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ اس تضاد سے یہ سوال جنم لیتا ہے کہ 'کیا واشنگٹن کا ہدف جنگ ختم کرنا ہے یا وہ اپنے منصوبے کے اگلے مرحلے پر عمل درآمد کے لئے موقع فراہم کرنے کے درپے ہے؟'

مجلس شورائے اسلامی (پارلیمان) کے اسپیکر ڈاکٹر محمد باقر قالیباف، نے اس تجویز کے جواب میں لکھا: "امریکیوں نے ہماری عقل کا اندازہ اپنے مختصر سی آئی کیو کی روشنی میں لگایا ہے۔ ہم ان امریکی چالوں کو پہچاننے میں فل پروفیسر بن چکے ہیں۔"

اس جملے کا پیغام واضح ہے؛ وہ یہ امریکہ کی عہدشکنیوں کے بار بار تجربے کے بعد، یہ بعید از قیاس ہے کہ ایران میں کوئی اتنا سادہ لوح ہو کہ محض جنگ بندی کی تجویز پر دوبارہ واشنگٹن پر بھروسہ کر لے۔ امریکیوں کی یہ توقع بھی مضحکہ خیز ہے ایرانی پھر بھی ان کے دھوکے میں آئیں گے۔

امریکا کس واقعے کا منتظر ہے؟

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس جنگ بندی کا اصل ہدف ایک داخلی موقع پیدا کرنے کے لئے وقت خریدنا ہے نہ کہ جنگ ختم کرنا۔

گذشتہ ہفتوں میں، ایندھن کے عدم توازن کے انتظام اور پٹرول کی قیمت میں ممکنہ اصلاح سے متعلق بعض مباحث اٹھنے کے ساتھ ہی، دشمن میڈیا نے بھی رائے عامہ کو اشتعال دلانے اور معاشرے میں دو دھڑے پیدا کرنے پر اپنی توجہ مرکوز کر دی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ امریکی انتظامیہ پٹرول کے شعبے میں شدید عدم توازن کا سامنا کر رہی ہے؛ ایسا عدم توازن جس کا ایک حصہ کھپت میں اضافے، درآمدات کی قلت اور علاقائی تبدیلیوں اور یوکرین جنگ کے نتیجے میں ایندھن کی فراہمی کی صورتحال کا نتیجہ ہے۔ قدرتی بات ہے کہ اس صورت حال کا انتظام مشکل معاشی فیصلوں کا متقاضی ہے۔

غالب تجزیہ یہ ہے کہ امریکہ کو امید ہے کہ اگر یہ فیصلے امریکہ میں داخلی احتجاجات کا باعث بنتے ہیں تو وہ اس صورت حال کو ایک اسٹراٹیجک موقع کے طور پر استعمال کر سکے؛ یعنی داخلی کشیدگی پیدا ہونے کے بعد، وہ جنگ مخالف جذبات کو ٹھنڈا کرکے، انتقامی اقدام کے طور پر اپنا دباؤ اور حملے دوبارہ شروع کر دے۔

اگر یہ تجزیہ درست ہے تو جنگ بندی کی تجویز امریکی کے رویے میں تبدیلی کا اشارہ نہیں بلکہ اسی "امریکہ-بازی" کا حصہ ہے جس کا قالیباف نے حوالہ دیا؛ جھوٹا اعتماد پیدا کرنے اور اگلا دباؤ ڈالنے کے لئے مناسب ترین وقت کا انتظار کرنے کی ایک کوشش۔

اس زاویئے سے، اس منصوبے کو ناکام بنانے کا سب سے اہم راستہ امریکہ کے وعدوں پر عدم اعتماد ہے، اور یہ عدم اعتماد موجود ہے۔

-----------------------

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha